گم راہ بھی ہم کبھی رہے ہیں
اس فخر میں کچھ عجب نشے ہیں
ہم پر نہ چلے گا بس تمہارا
ہم لوگ یہ جنگ لڑ چکے ہیں
کب ظلم ہوا کے ختم ہوں گے
پرَ کھول کے خاک ہو گئے ہیں
ہر گام ہے مرحلوں کی منزل
یک رنگ تمام راستے ہیں
مرنے کے بھی ان گنت بہانے
جینے کو بھی لاکھ مسئلے ہیں
اک رو میں ، ہیں رہروانِ دنیا
کچھ دیکھتے ہیں نہ سوچتے ہیں
ہر آن‘ کچھ آہٹوں سی خوشبو
ہر چاپ‘ گلاب سے کھلے ہیں
باتوں میں چھپا رہے ہیں باتیں
جتنے دکھ ہیں سب اَن کہے ہیں
دیواروں کے شگاف خالد
یادوں کی چھتوں تک آ گئے ہیں
